مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر مہنگی جارحیت کے اثرات کے حوالے سے اپنے ملک کے عوامی حلقوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے آبنائے ہرمز سے 1.1 ارب بیرل تیل کی ترسیل کو آسان بنایا، جبکہ ایران ایک بیرل بھی برآمد نہیں کر سکا۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے موقع پر اپنے ریپبلکن پارٹی کے ساتھیوں کو درپیش متعدد مسائل کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے تیل کی برآمد شروع ہونے کے بعد پہلی بار ایسا ہوگا کہ اس ملک کی رواں ہفتے کسی قسم کی تیل برآمدات نہیں ہوں گی! ہم ایران کو بے مثال سطح پر تنہا کر رہے ہیں!
انہوں نے ایک بار پھر وعدہ کیا کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات پر قابو پالیں گے اور تیل کی رسد میں اضافہ اور قیمتوں میں کمی دیکھیں گے!
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید آکسیوس کو بتایا کہ ہم جو کام نہیں کریں گے وہ یہ ہے کہ بائیڈن حکومت کی طرح امریکی عوام سے کہیں کہ ان کے حالات کتنے اچھے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں؛ کبھی کبھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں ایمرجنسی روم کا ڈاکٹر ہوں۔ امریکی عوام مہنگائی کے بھاری بوجھ میں دبے جا رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ